علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادائیگی کے وقت اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

جمعہ، 20 نومبر، 2020

علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادائیگی کے وقت اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا

علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادائیگی کے وقت اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا

مرحوم کی نماز جنازہ لاہور کے مینار پاکستان گراونڈ پر کل بعد نماز جمعہ 3 بجے ادا کی جائے گی، ہزاروں افراد کی شرکت متوقع


لاہور (روزنامہ پنجاب اخبارتازہ ترین۔ 19نومبر2020ء) علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ادائیگی کے وقت اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کی تصدیق ہو جانے کے بعد ان کی نماز جنازہ ادائیگی کے حوالے سے تفصیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ تحریک لبیک حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کل بروز جمعہ ادا کی جائے گی۔

مرحوم کی نماز جنازہ ادائیگی کیلئے بادشاہی مسجد کیساتھ مینار پاکستان گراونڈ اور بعد نماز جمعہ 3 بجے کے وقت کا انتخاب کیا گیا ہے۔ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت کا امکان ہے، اسی باعث مینار پاکستان کے وسیع گراونڈ کا انتخاب کیا گیا۔ دوسری جانب مرحوم کے اہل خانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔

(جاری ہے)




جمعرات کے روز ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی، جس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔


علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے حوالے سے شیخ زید ہسپتال لاہور کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ علامہ کو جمعرات کی شب پونے 9 بجے ہسپتال لایا گیا، تاہم وہ پہلے ہی انتقال کر چکے تھے۔ مرحوم گزشتہ کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے۔ جبکہ اہل خانہ نے علامہ خادم رضوی کی بیماریوں کی ہسٹری کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔


دوسری جانب انتقال کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے رہنما تحریک لبیک عنایت الحق قادری کا کہنا ہے کہ لاہور میں خادم رضوی کا انتقال ہو چکا۔

خادم حسین رضوی کل ہی اسلام آباد سے واپس لاہور آئے تھے، اسلام آباد میں بھی ان کی طبیعت خراب تھی، ان کے جنازے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ واضح رہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE