جزائر کی ملکیت سے متعلق سندھ اور وفاق کا تنازع شدت اختیار کرگیا - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

بدھ، 7 اکتوبر، 2020

جزائر کی ملکیت سے متعلق سندھ اور وفاق کا تنازع شدت اختیار کرگیا


جزائر کی ملکیت سے متعلق سندھ اور وفاق کا تنازع شدت اختیار کرگیا

صوبائی حکومت کی طرف سے وفاقی حکومت کو جزائر پر کام کی مشروط اجازت دینے کا حکم نامہ واپس لے لیا گیا


کراچی (روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔ 07 اکتوبر2020ء) جزائر کی ملکیت سے متعلق تنازع پر سندھ کی طرف سے وفاقی حکومت کو جزائر پر کام کی مشروط اجازت کا حکمنامہ واپس لے لیا گیا ۔ اس حوالے سے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سندھ کے جزائر اور ساحلوں سے متعلق وفاقی حکومت کےاقدامات پر صوبائی حکومت نے وفاق کو احتجاجی مراسلہ ارسال کردیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں موجود جزائر اور سمندری ساحل صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے ، وفاق کی جانب سے پاکستان آئی لینڈ اتھارٹی کے قیام اور آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی اور طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی ہے ، آرڈیننس کا اجراء کرکے سندھ کے جزائر کی ملکیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ، طے شدہ امور کی خلاف ورزی کرکے وفاقی حکومت غیر آئینی غیر قانونی اقدامات کررہی ہے، وفاق نے آئین سےانحراف کرکے آرڈیننس کااجراء کیا، وفاقی حکومت اب سندھ کے جزائر میں نئے شہر بسانے کے منصوبوں پر کام نہیں کرسکے گی ، حالاں کہ سندھ حکومت نے بہتری کے لئے وفاقی حکومت کو آئی لینڈ کی ترقی کی مشروط اجازت دی تھی ، تاہم اب پہلے سے کی گئی خط وکتابت اور توثیق پر عمل نہیں کریں گے اور وفاقی حکومت سے جزائر پر کام کی مشروط اجازت کا حکمنامہ واپس لے رہے ہیں۔

(جاری ہے)




یاد رہے کہ صدر مملکت نے جزائر سے متعلق آرڈیننس 2 ستمبر 2020ء کوجاری کیا ، جس کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے جزائرکی مالک وفاقی حکومت ہوگی ، بنڈال اور بڈو سمیت تمام جزائر کی مالک وفاقی حکومت ہوگی ، ٹیریٹوریل واٹرز اینڈ میری ٹائم زونز ایکٹ 1976 کے زیرانتظام ساحلی علاقے بھی وفاق کی ملکیت ہونگے ، حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے پاکستان آئی لینڈز ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرے گی ، اتھارٹی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کی مجاز ہوگی ، اتھارٹی کا ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہوگا ، علاقائی دفاتر دیگر مقامات پر قائم ہوسکیں گے ، اتھارٹی غیرمنقولہ جائیداد پرتمام لیویز، ٹیکس، ڈیوٹیاں، فیس اور ٹرانسفرچارجز لینے کی مجاز ہوگی ، وزیراعظم اتھارٹی کا پیٹرن ہوگا جو کارکردگی کے جائزے سمیت پالیسی ہدایات جاری کرے گا ، حکومت چیئرمین سمیت 5 سے 11 ارکان پر مشتمل 5 سال کیلئے پالیسی بورڈ تشکیل دے گی ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE