سعودی عرب میں ریکارڈ بیروزگاری‘معیشت 7فیصد تک سکڑ گئی - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

پیر، 5 اکتوبر، 2020

سعودی عرب میں ریکارڈ بیروزگاری‘معیشت 7فیصد تک سکڑ گئی


سعودی عرب میں ریکارڈ بیروزگاری‘معیشت 7فیصد تک سکڑ گئی

تیل کی قیمتوں میں اتار‘چڑھاﺅ نے دنیا کے امیر ملک کو ہلاکررکھ دیا 


نیویارک(روزنامہ پنجاب تازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اکتوبر ۔2020ء) سعودی عرب کی حکومت کے مطابق اس کی معیشت رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں7 فیصد تک سکڑ گئی ہے اور بے روزگاری کی سطح بھی ریکارڈ بلندی کو چھو رہی ہے. سعودی عرب خطے کا اہم ملک ہے اور اسلامی ممالک میں اسے ایک نمایاں مقام حاصل ہے سعودی عرب کی ایک معاشی اہمیت بھی ہے اور وہ تیل پیدا کرنے والا دنیا کا ایک بڑا ملک ہے اس کا شمار تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے ایک بااثر ملک کے طور پر کیا جاتا ہے.

(جاری ہے)




سعودی عرب کی ایک اور معاشی اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان اور ترقی پذیر اسلامی ملکوں کے ساتھ ساتھ خطے کے کئی دیگر ممالک کے لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے عالمی منڈی میں گزشتہ کچھ عرصے سے تیل کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں اور کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے تیل کی کھپت اور مانگ بھی کافی گھٹ گئی ہے جس کے اثرات سعودی معیشت پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں سعودی عرب کی سکڑتی ہوئی معیشت کے پاکستان اور علاقے کے دوسرے ملکوں پر کیا سیاسی اور معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ سعودی معیشت کے سکڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کورونا کے پھیلاﺅ اور اس سلسلے میں نافذ کردہ پابندیوں سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں سعودی عرب نے کم طلب کے باوجود زیادہ تیل برآمد کرنے کی کوشش کی اس تمام عرصے میں تیل کی قیمت عمومی طور پر 30 ڈالر فی بیرل سے اوپر نہیں گئی جبکہ ماہرین کے اندازوں کے مطابق اگر تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے کم ہو تو سعودی عرب کو منافع نہیں ہوتا اس سے نہ صرف سعودی عرب کو نقصان ہوا، بلکہ بے روزگاری کی شرح بھی ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی.

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری بڑی وجہ سعودی حکومت کی جانب سے غیر پیداواری شعبوں کے غیر معمولی اخراجات ہیں‘بیرون ملک رہنے والے سعودیوں نے سعودی حکومت کے اخراجات کو سامنے لانے کے لیے دو گروپ بنائے ہیں جو حکومت کے بے پناہ غیر پیداواری اخراجات کو نہ صرف سامنے لا رہے ہیں بلکہ ان پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ ناموافق حالات اور بہتر منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے خطے میں بلاشبہ سعودی عرب کے سیاسی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچے گا انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی آمدنی کے دو بڑے ذرائع ہیں ایک حج اور عمرہ کے پیکجز ،جو اس سال کورونا کی وبا کے سبب نہ ہونے کے برابر رہے جبکہ آمدنی کا دوسرا ذریعہ تیل کی برآمد ہے.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE