ترک صدر کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنا بھارت سے برداشت نہ ہوا - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

بدھ، 23 ستمبر، 2020

ترک صدر کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنا بھارت سے برداشت نہ ہوا


ترک صدر کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنا بھارت سے برداشت نہ ہوا

یہ انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے جو ہمیں مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ترکی کو کسی دوسرے ملک کی خود مختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔اقوام متحدہ میں بھارت کے نمائندے کا ٹویٹ

نئی دہلی (روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔ 23 ستمبر2020ء) ترک صدر طیب اردگان کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنا بھارت کو ایک آنکھ نہ بھایا۔بھارت نے اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔اقوام متحدہ میں بھارت کے نمائندے ٹی ایس تریمورتی کا کہنا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے بارے میں ہم نے صدر اردگان کے تبصرے کو دیکھا ہے۔یہ انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہےاور یہ انڈیا کے لیے نا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔

ترکی کو کسی دوسرے ملک کی خود مختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے۔



جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے عمل کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتے ہیں۔

(جاری ہے)




 اپنے ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لیے جائز جدو جہد میں ترکی کی مستحکم حمایت کشمیریوں کے لیے طاقت بنی ہوئی ہے۔


واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان سے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھرپور انداز میں گفتگو کی تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشاء میں پائیدار امن کے قیام کے لیے لازم ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ کشمیر کا تنازعہ جو جنوبی ایشیاء کے امن و استحکام کی ضمانت ہے، تاحال ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں امن کے لیے آوازاٹھاتے رہیں گے اور اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE