لاہور موٹروے پر خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

بدھ، 9 ستمبر، 2020

لاہور موٹروے پر خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

لاہور موٹروے پر خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

خرابی کی وجہ سے خاتون نے گاڑی روڈ کے کنارے کھڑی کی تو ملزمان نے نمودار ہو کر کھڑکی کے شیشے توڑ کر خاتون اور بچوں کو گاڑی سے نکالا، موٹروے کی حفاظتی تار کاٹ کر جھاڑیوں میں لے جا کر بچوں کے سامنے خاتون کی عزت تار تار کر دی گئی


لاہور (روزنامہ پنجاب اخبارتازہ ترین۔ 09 ستمبر2020ء) لاہور موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، خرابی کی وجہ سے خاتون نے گاڑی روڈ کے کنارے کھڑی کی تو ملزمان نے نمودار ہو کر کھڑکی کے شیشے توڑ کر خاتون اور بچوں کو گاڑی سے نکالا، موٹروے کی حفاظتی تار کاٹ کر جھاڑیوں میں لے جا کر بچوں کے سامنے خاتون کی عزت تار تار کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور اسلام آباد موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا خوفناک واقعہ پیش آیا۔

بتایا گیا ہے کہ لاہور کے علاقے گجر پورہ کے قریب موٹروے پر چند جنسی درندوں نے بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹروے پر دوران سفر خاتون کی گاڑی خراب ہوئی تو اس دوران چند نامعلوم افراد اچانک نمودار ہوئے اور کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالا۔

(جاری ہے)



ملزمان نے خاتون اور بچوں کو گاڑی سے نکالا اور موٹروے کی حفاظتی تار کاٹ کر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے۔


ملزمان نے خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور پھر بعد ازاں گاڑی میں موجود ایک لاکھ روپے کی رقم اور نقدی لے کر فرار ہوگئے۔ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ واقعہ پیش آنے کے بعد خاتون نے رشتے داروں سے رابطہ کیا۔ ایک رشتے دار کی جانب سے فوری موٹروے پولیس سے رابطہ کیا گیا تاہم ایک گھنٹہ انتظار کے باوجود موٹروے پولیس نہ پہنچی۔

پولیس اور خاتون کے رشتے داروں کے جائے وقوعہ پہنچنے سے قبل ہی ملزمان خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا کر فرار ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے تاحال اس واقعے کا مقدمہ ہی درج نہیں کیا۔ لاہور پولیس اور موٹروے پولیس کے درمیان اس بات پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے کہ جس جگہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا، وہ علاقہ کس پولیس کے حدود میں آتا ہے۔ جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔




 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE