شارجہ اور دُبئی کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے شاندار خبر آ گئی - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

پیر، 28 ستمبر، 2020

شارجہ اور دُبئی کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے شاندار خبر آ گئی


شارجہ اور دُبئی کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے شاندار خبر آ گئی

دونوں ریاستوں کے درمیان انٹر سٹی بس سروس بحال کر دی گئی



دُبئی(روزنامہ پنجاب تازہ ترین اخبار۔28 ستمبر2020ء) دُبئی اور شارجہ متحدہ عرب امارات کی انتہائی اہم ترین ریاستیں ہیں جہاں پر 50 لاکھ سے زائد تارکین وطن آباد ہیں۔ ان تارکین کی جانب سے زیادہ تربسوں پر سفر کیا جاتا ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد دُبئی اورشارجہ کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ تاہم کورونا کی وبا کے باعث کئی ماہ سے انٹر سٹی بس سروس بند کر دی گئی تھی۔

جس کے باعث تارکین وطن مہنگی ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے پرمجبور ہو گئے تھے ۔ روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے خوش خبری سُنا دی گئی ہے جس کے مطابق گزشتہ روز اتوار سے دُبئی شارجہ انٹر سٹی بس سروس کے دو روٹس دوبارہ شروع کر دیئے گئے ہیں جبکہ تیسرا رُوٹ اگلے دو ہفتوں بعد شروع کیا جائے گا۔ روڈز ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فی الحال دُبئی شارجہ انٹرسٹی بس سروس کے دو رُوٹس شروع کیے گئے ہیں جبکہ تیسرا رُوٹ دو ہفتوں بعد شروع کیا جائے گا۔

(جاری ہے)




پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے پلاننگ اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر عادل شرکری نے بتایا کہ گزشتہ روز اتوار سے پہلا رُوٹ نمبر E303دُبئی کے یونین میٹرو اسٹیشن سے شارجہ کے الجبیل بس اسٹیشن والا بحال کر دیا گیا جبکہ دوسرے رُوٹ E307Aکی بسیں بھی دُبئی کے ابو حائل میٹرو اسٹیشن سے شارجہ کے الجبیل بس اسٹیشن کی جانب چلنا شروع ہو گئی ہیں۔البتہ تیسرا روٹ نمبر E315 دُبئی کے اتصالات میٹرو اسٹیشن سے شارجہ کے موالیہ بس اسٹیشن کی جانب 2 ہفتوں بعد کھول دیا جائے گا۔

اس فیصلے سے شارجہ اور دُبئی کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں مسافرخصوصاً تارکین وطن بہت خوش دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ بس سروس کے بند ہونے کے دوران وہ مہنگے داموں دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع سے سفر کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اب وہ دوبارہ بس کاسستا سفر کر سکیں گے۔اتھارٹی کے مطابق یہ تینوں رُوٹس بہت اہم ہیں کیونکہ ماہانہ لاکھوں افرادان کے ذریعے ریاستوں کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ سفر کرتے ہیں۔خصوصاً ان لوگوں کا بھلا ہوتا ہے جو شارجہ میں مقیم ہیں مگر انہیں ملازمت کی خاطر روزانہ دُبئی آنا پڑتا ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE