ڈینیئل پرل کیس ، سپریم کورٹ نے ملزمان کو بری کرنے سے روک دیا - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

پیر، 28 ستمبر، 2020

ڈینیئل پرل کیس ، سپریم کورٹ نے ملزمان کو بری کرنے سے روک دیا


ڈینیئل پرل کیس ، سپریم کورٹ نے ملزمان کو بری کرنے سے روک دیا

سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل کے بعد عدالت نے بریت کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس بھی جاری کر دیے


کراچی(روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔ 28 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت کی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ملزمان کو آئندہ ہفتے تک بری کرنے سے روک دیا ، بریت کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس بھی جاری کر دیے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کے دوران کہا کہ آپ کو دو باتیں بتانا چاہتے ہیں ، مفروضوں پر بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیں گے ، آپ نے پورے کیس کی کڑیاں جوڑنی ہیں ، ایک کڑی بھی ٹوٹ گئی تو آپ کا کیس ختم ہوجائے گا ۔

جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ مقدمے میں کل 23 گواہ ہیں ، ایک گواہ نے راولپنڈی میں ڈینئل پرل اور عمر شیخ کی ملاقات کرائی ، ہوٹل کے ریسپشنسٹ نے عمر شیخ کو شناخت پریڈ میں پہچانا ۔

(جاری ہے)




دوران سماعت جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سازش کہاں ہوئی؟ ثبوت فراہم کریں ، سندھ حکومت کے وکیل نے کہا کہ ہوٹل استقبالیہ عملے کے ایک رکن نے بھی ملاقات کی تصدیق کی ، اس پر جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ظاہر ہو رہا ہے کہ سازش سے متعلق آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بہت سی چیزیں پس پردہ بھی چل رہی تھیں ، عمر شیخ جب ڈینئل پرل سے ملا تو اپنا نام بشیر بتایا، عمر شیخ نے پہلی ملاقات میں نام اس لیے غلط بتایا کیونکہ اس کے ذہن میں کچھ غلط چل رہا تھا ۔


ان دلائل پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے قتل کا فیصلہ قتل کرنے سے ایک لمحہ پہلے ہوا ہو۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا یہ درست ہے پہلی سازش قتل نہیں بلکہ تاوان لینا تھی ، 23 جنوری 2002 کوای میل کی گئی جس میں ڈینئل پرل کے اغوا برائے تاوان کا ذکر تھا ، ٹیکسی ڈرائیور نے شناخت پریڈ میں ملزمان کی شناخت کی ، ملزم عمر شیخ کو 13 فروری کو گرفتار کیا گیا جب کہ 22اپریل 2002 کو ملزمان پر چارج فریم ہوا ۔ بعد ازاں اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت کی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ملزمان کو آئندہ ہفتے تک بری کرنے سے روک دیا ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE