پی ٹی وی مارننگ شو میں خاتون کی ورزش کا معاملہ، علی محمد خان انصار عباسی کے حق میں بول پڑے - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

بدھ، 23 ستمبر، 2020

پی ٹی وی مارننگ شو میں خاتون کی ورزش کا معاملہ، علی محمد خان انصار عباسی کے حق میں بول پڑے

پی ٹی وی مارننگ شو میں خاتون کی ورزش کا معاملہ، علی محمد خان انصار عباسی کے حق میں بول پڑے

اسلام ایسی چیزوں کی اجازت نہیں دیتا،قومی نیٹ ورک ہونے کے ناطے پی ٹی وی کو ہماری اسلامی اور مشرقی ثقافتی اقدار پر عمل کرنا چاہیے۔علی محمد خان


اسلام آباد (روزنامہ پنجاب تازہ ترین -23 ستمبر2020ء) پاکستان ٹیلی ویژن کے مارننگ شو میں خاتون کی ورزش کرتی ویڈیو شیئر کرنے پر معروف صحافی انصار عباسی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اسی حوالے سے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کو ہماری اسلامی اور معاشرتی ثقافتی اقدار پر عمل کرنا چاہیے۔علی محمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایسی چیزوں کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ قومی نیٹ ورک ہونے کے ناطے پی ٹی وی کو ہماری اسلامی اور مشرقی ثقافتی اقدار پر عمل کرنا چاہیے۔علی محمد خان نے مزید کہا کہ کسی جگہ یہ حد بندی ضروری ہے کہ ہم کس حد تک لبرل اور مغربی بن سکتے ہیں۔مدینہ کی ریاست کے تصور کو اس کی روح کے ساتھ اپنایا جانا چاہیے۔

(جاری ہے)





واضح رہے کہ صحافی کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر پی ٹی وی نیوز کی ایک وڈیو شیئر کی گئی جس میں ایک خاتون کو ورزش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کو ایک مرد کی طرف سے ہدایات بھی دی جارہی ہیں۔ انصار عباسی نے وڈیو کونا صرف شیئر کیا بلکہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان،وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم باجوہ کو بھی ٹیگ کیا گیا،صحافی کی طرف سے وڈیو شیئر کیے جانے کو سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک ٹوئیٹر صارف تراب علی شاہ نے لکھا کہ آپ کو شرم آنی چاہیئے، آپ کو افغانستان ہجرت کرلینی چاہیئے کیونکہ آپ کی ذہنیت وہاں کے طالبان سے ملتی ہے۔

سندھ اسمبلی کی سابق رکن ارم عظیم فاروقی نے سوال اٹھایا کہ ورزش کیے جانے میں کیا چیز غلط ہے؟

ایک ٹوئیٹر صارف سید اسد بخاری نے لکھا کہ ہیلو سر! اس کو ورزش کہتے ہیں جو کہ آج کے دور میں بہت عام ہوچکی ہے، جس کو بہت سے انسان کرتے ہیں،مزید تفصیلات جاننے کیلئے ’گوگل‘ سے رجوع کریں۔

دوسری طرف چند سوشل میڈیا صارفین نے انصار عباسی کی حمایت بھی کی ، جن میں سے ایک محمد ندیم اعوان نے لکھا کہ جب پاکستان کے قومی اور نجی ٹی وی چینلوں پر اس طرح کے بے حیائی پروگرام چلائے جائیں گے تو معاشرے میں ریپ کیسزبھی سامنے آئیں گے، ثابت ہوا کہ حکومتی سرپرستی میں منظم سازش کے تحت معاشرے کو تباہ کرنے کیلئے ایسے پروگرام چلائے جارہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE