اسرائیلی فوجی عدالت نے زیرحراست 17 سالہ فلسطینی بچے کو سخت سزا سنا دی - Roznama Punjab

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Your Ads Here

منگل، 29 ستمبر، 2020

اسرائیلی فوجی عدالت نے زیرحراست 17 سالہ فلسطینی بچے کو سخت سزا سنا دی


اسرائیلی فوجی عدالت نے زیرحراست 17 سالہ فلسطینی بچے کو سخت سزا سنا دی

سامر عبدالکریم عویس کو قابض اسرائیلی فوج نے 15 اپریل2019ء کو حراست میں لیا تھا


مقبوضہ بیت المقدس (روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔ 29 ستمبر2020ء) اسرائیلی فوجی عدالت نے زیرحراست 17 سالہ فلسطینی بچے کو سخت سزا سنا دی۔ سامر عبدالکریم عویس کو قابض اسرائیلی فوج نے 15 اپریل 2019ء کو حراست میں لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل کی ’سالم‘ نامی فوجی عدالت نے زیرحراست فلسطینی بچے سامر عبدالکریم عویس کو 5 سال قید با مشقت کی سزا کا حکم سنا دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عویس غرب اردن کے شمالی شہر جنین میں قائم پناہ گزین کیمپ کا رہائشی ہے۔ اس کے والد عبدالکریم عویس بھی اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں اور انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 17 سالہ سامرعویس کو اسرائیلی فوج نے 15 اپریل 2019ء کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اسے بیتح تکفا نامی ایک ٹارچر سیل میں ڈالا گیا جہاں اس پر مسلسل دو ماہ تک وحشیانہ تشدد کیا جاتا رہا ہے۔

(جاری ہے)




انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سامر کو اس کے بھائی سمیت کئی بار گرفتار کرنے اور اس پر قاتلانہ حملوں کی بھی کوشش کی ہے۔ اسیر کے ایک دوسرے بھائی راتب عویس 14 جنوری 2019ء سے پابند سلاسل رہے ہیں۔ اپنی پیدائش کے بعد اس نے پہلی بار اسرائیل کی 'جلبوع' جیل میں اپنے والد سے ملاقات کی تھی۔ راتب کو قابض فوج نے 14 جولائی 2020ء کو رہا کردیا تھا۔ 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Bottom Ad

YOUR AD HERE